27 فروری 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ ایران دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی غرض سے دنیا میں موجود تمام ایٹمی ہتھیاروں کی نابودی کے لئے تمام تر کوششیں کرے گا۔

ابنا: علی اکبر صالحی نے پیر کی رات جنیوا میں اقوام متحدہ کے ڈائریکٹر جنرل اجمال توکایوف سے ملاقات میں کہا کہ جینوا کانفرنس میں ایران کی اولین ترجیح دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے مذاکرات کرنا ہے۔ یہ ملاقات جنیوا میں انجام پائي ہے۔

انہوں نے این پی ٹی معاہدے کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس معاہدے کا رکن ہونے کی حیثیت سے اپنے مکمل حقوق کاخواہاں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ ایران کے تعمیری تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے کہا کہ ایران اپنے اعتقادی اصولوں اور رہبر انقلاب اسلامی کے فتوے کے مطابق ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور پھیلاؤ کا مخالف ہے۔

علی اکبر صالحی نے کہا کہ ایران پرامن ایٹمی انرجی حاصل کرنے کے اپنے حقوق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا اور تہران این پی ٹی کے تحت دوہری پالیسیوں نیز امتیازی رویوں کا مخالف ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کونسل کی سربراہ ناوی پیلئي نے بھی علی اکبر صالحی سے ملاقات کی۔ وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے ناوی پیلئي کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی اعتقادی اصولوں کے مطابق انسانی حقوق کا احترام کرتا ہے۔

اور ایران میں جو قوانین وضع کئے جاتے ہیں وہ جمہوریت کے مطابق ہوتے ہیں۔ محترمہ ناوی پیلئي نے کہا کہ ایران ایک بڑا اور عظیم و تاریخی تہذیب و تمدن کا حامل ملک ہے اور اس نے بہت سے میدانوں میں پیشرفت کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ انسانی حقوق کونسل کے انیسویں اجلاس میں شرکت کرنے جینوا گئے ہیں۔........

/169